Bohat Aaraam Karna Chahti Hun Yehi Ek Kaam Karna Chahti Hun Shaoor-e-Aagahi Ek Almiaa Hai Ise Neelaam Karna Chahti Hun Mein Apni Umer Ke Saaray Asaasay Tumhaaray Naam Karna Chahti Hun Tumharay Khaima-e-Khushbuu Mein Reh Kar Mein Subaah-o-Shaam Karna Chahti Hun Charaaghon Se Hawaa Ki Dushmani Hai Ise Naakaam Karna Chahti Hun
Ibn-e-Insha Ghazal | شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی ہم نے سب دُکھ جہاں کے دیکھے ہیں بے کلی اِس قدر نہیں ہوتی نالہ یوں نا رسا نہیں رہتا آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی چاند ہے ____ کہکشاں ہے ____ تارے ہیں کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی ایک جاں سوز و نامراد خلش اِس طرف ہے ____ اُدھر نہیں ہوتی دوستو ____ عشق ہے خطا لیکن کیا خطا درگزر نہیں ہوتی رات آکر گزر بھی جاتی ہے اِک ہماری سحر نہیں ہوتی بے قراری سہی نہیں جاتی زندگی مختصر نہیں ہوتی ایک دن دیکھنے کو آجاتے یہ ہوس عمر بھر نہیں ہوتی حُسن سب کو خدا نہیں دیتا ہر کسی کی نظر نہیں ہوتی دل پیالہ نہیں گدائی کا عاشقی در بہ در نہیں ہوتی ____ ابنِ انشا